بنگلورو۔22/دسمبر(ایس او نیوز) سیکس اسکینڈل میں ملوث ہوکر وزارت سے مستعفی ہونے والے ایچ وائی میٹی کی مبینہ سی ڈی کی سی آئی ڈی جانچ کرنے میں مصروف ہے۔اس سلسلے میں رپورٹ ملتے ہی میٹی کے خلاف مناسب کارروائی شروع کی جائے گی۔یہ بات آج وزیرداخلہ اور کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے بتائی۔ کورٹگیرے میں 1.9 کروڑ روپیوں کی لاگت پر تعمیر شدہ شادی محل کا افتتاح کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میٹی سیکس اسکینڈل اور بعد میں دیگر امور کو لے کر وزیراعلیٰ سدرامیا اور ان کے درمیان کسی طرح کا اختلاف نہیں ہے۔ اور نہ ہی حکومت نے اس معاملے پر پردہ پوشی کی کوئی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایچ وائی میٹی معاملے میں کسی خاتون کی طرف سے اب تک پولیس میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔ اس معاملے میں ریاستی ویمنس کمیشن کی چیر پرسن ناگ لکشمی بائی کے اس بیان پر کہ ایچ وائی میٹی کے ساتھ سی ڈی میں شامل خاتون سے کمیشن کا ربد اب تک نہیں ہوپایا، ڈاکٹر پرمیشور نے کسی طرح کا ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کردیا۔ اور کہاکہ کمیشن کی چیر پرسن نے کیا بیان دیا ہے اس کا انہیں علم نہیں اسی لئے اس پر تبصرہ کرنا بھی وہ درست نہیں سمجھتے، جہاں تک سی آئی ڈی کی جانچ کا مرحلہ ہے رپورٹ ملنے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے پہلے بار پولیس والوں کو وہ تمام سہولیات مہیا کرائی جارہی ہیں جو اس سے پہلے کسی پولیس فورس کو ملک بھر میں دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے پولیس جوانوں کو 20 سال میں ایک مرتبہ ترقی دی جاتی، اس مدت کو گھٹا کر حکومت نے دس برس کردئے ہیں۔ بہت جلد گیارہ ہزار پولیس والوں کو ان کے موجودہ عہدوں کے مقابل ترقی دی جائے گی۔اور ساتھ ہی ترقی کے بعد انہیں نئے عہدوں کے مساوی تنخواہیں بھی ادا کی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے پولیس والوں کو جو سہولیات اور بھتے مہیا کرائے جارہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ریاست کے مزید تین وزراء کے گھپلے فاش کرنے ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کے دعویٰ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یڈیورپا بیچ دیوار پر چراغ رکھنے کا کام چھوڑ دیں، وزراء کے خلاف اگر ثبوت موجود ہوں تو واضح طور پر منظر عام پر لایا جائے یا پھر اس طرح کی بیان بازی نہ کی جائے، اس طرح کے غیر یقینی بیانات دے کر لوگوں میں انتشار پیدا کرنے کی بجائے یڈیورپا کے پاس اگر ثبوت ہیں تو پوری دلیری کے ساتھ منظر عام پر لائیں، ہمیشہ اس طرح کے مبہم بیانات دے کر لوکوں کو انتشار میں مبتلا رکھنا کسی بھی سیاسی پارٹی کے رہنما کو زیب نہیں دیتا۔ یڈیورپا ریاست کے ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں، اور وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر بھی ساڑھے تین سال تک کام کرچکے ہیں۔ انہیں اس کا تجربہ بخوبی ہونا چاہئے، لیکن حساس معاملات پر غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کے ذریعہ وہ اپنی کمزوری کاکھلا مظاہرہ کررہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کے مطابق یڈیورپا کے الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ اس طرح کے بیان اگر بار بار عوامی حلقوں میں منظر عام پر آتے رہیں تو خود یڈیورپا ہی ایک مذاق کا موضوع بن کر رہ جائیں گے۔